واشنگٹن (15 اگست 2026): مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تحریریں اب میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے عام ہو رہی ہیں، تاہم اکثر یہ جانچنا مشکل ہوتا ہے کہ کوئی تحریر انسان نے لکھی ہے یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ بعض اوقات اے آئی کے استعمال کے شواہد بھی غلطی سے خبر کے ساتھ شائع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ڈان میں بھی ایک سے زائد مرتبہ ایسی مثالیں سامنے آئیں جب خبر کے اختتام پر اے آئی کا پیغام بھی شائع ہو گیا، جس میں خبر کو مزید بہتر بنانے کی پیشکش کی گئی تھی۔
اب اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کی شناخت کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ کلاڈ (Claude) تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے مطابق وہ اپنے اے آئی ماڈلز سے تیار ہونے والی تحریروں میں پوشیدہ واٹر مارکس شامل کرے گی۔
یہ اقدام یورپی یونین کے EU AI Act سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کے تحت اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت یا نشان دہی کے لیے اقدامات ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم اینتھروپک کے مطابق اس کی ٹیکسٹ واٹر مارکنگ صرف یورپی یونین تک محدود نہیں ہوگی بلکہ دنیا بھر میں کلاڈ کے دستیاب ہونے کے ساتھ اس کا اطلاق کیا جائے گا۔
ٹیکسٹ واٹر مارکنگ کیا ہے؟
اے آئی ماڈل جب کوئی تحریر تیار کرتا ہے تو وہ الفاظ کے انتخاب اور ترتیب کے امکانات کا حساب لگاتا ہے۔ واٹر مارکنگ اسی عمل میں مخصوص الفاظ کے انتخاب اور ترتیب میں ایک ایسا پوشیدہ پیٹرن شامل کرتی ہے جو عام قاری کو نظر نہیں آتا اور عبارت کے مفہوم کو بھی تبدیل نہیں کرتا۔
مخصوص ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے متن کا تجزیہ کرنے پر یہ پوشیدہ پیٹرن اس بات کا اشارہ دے سکتا ہے کہ تحریر اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔
اینتھروپک اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی پہلی کمپنی نہیں۔ گوگل کے Gemini میں بھی واٹر مارکنگ سے متعلق ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، جب کہ اوپن اے آئی بھی اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی پر کام کر چکی ہے۔
یہ نظام کتنا قابلِ اعتماد ہوگا؟
کمپنیوں کے مطابق واٹر مارک بعض صورتوں میں کاپی اور پیسٹ کرنے یا معمولی ترامیم کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر متن کو بڑے پیمانے پر دوبارہ لکھا جائے، کسی دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے یا مکمل طور پر دوبارہ ٹائپ کیا جائے تو واٹر مارک کا سگنل ختم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے لیے ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ واٹر مارک کی موجودگی یا عدم موجودگی کو حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر انسانی تحریر کو اے آئی کے ذریعے صرف ترتیب دینے، فارمیٹ کرنے یا ایڈٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس میں بھی واٹر مارک شامل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح واٹر مارک نہ ملنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ متن لازماً انسان نے ہی لکھا ہے۔
یوں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن فی الحال اسے قطعی اور ناقابلِ شکست ثبوت قرار دینا ممکن نہیں۔
مستقبل میں اے آئی واٹر مارکنگ اور اسے ختم کرنے کی کوششوں کے درمیان ایک نئی تکنیکی دوڑ جاری رہنے کا امکان ہے۔
Source: ARY News Syndicated Desk. Live breaking coverage updated continuously on Abaseen News Network.
Original Reference: https://urdu.arynews.tv/ai-text-recognition-watermarking/